نئی دہلی، 11/اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) راجیہ سبھا میں آج اپوزیشن نے حکومت پر تعلیم کوفرقہ وارانہ رنگ میں رنگنے کا الزام لگاتے ہوئے ملک کے مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے جدید تعلیم پر زور دینے اور تعلیم کو بازار کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی صلاح دی۔ سی پی ایم لیڈر سیتارام یچوری نے خاکہ قومی تعلیمی پالیسی 2016پر ایوان بالا میں مختصر مدتی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نئی تعلیمی پالیسی کے تحت تعلیم میں مرکزیت، تجارتی اور فرقہ واریت کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملک کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے امریکہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھی تعلیم کوعالمی بنانے پر خصوصی زور دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس سے ملک میں اتحاد کی روح مضبوط ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں تعلیم کے حق کو بنیادی حق بنایا گیا ہے، لیکن جب تک ہم پڑوس کے اسکول میں پڑھانے کی پالیسی کو نہیں اپناتے، سبھی کو معیاری تعلیم نہیں مل پائے گی۔یچوری نے کہا کہ حکومت نئی تعلیمی پالیسی کے نام پر ویدک تعلیم دینے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم قدیم تعلیم کی مخالفت نہیں کر رہے ہیں، لیکن ہمیں موجودہ معاشرے کی ضرورت کوپیش نظر رکھتے ہوئے قدیم اور جدید دونوں دور کی جو بھی بہترین باتیں ہو، ان کونصاب میں شامل کئے جانے کی ضرورت۔